The Wise Caliph
The Caliph Haroon-ur-Rashid was known and respected for his justice and wisdom. At night, he would disguise himself as a common man and go through the streets of Baghdad. He would mingle with the common people in order to gain first-hand knowledge of their difficulties and problems.
One day, when he was holding court, two mien were brought before him. One of them was well dressed and appeared to be a well-to-do respectable citizen, while the other seemed to be a beggar, because he was in rags. These two men were holding between them a beautiful white horse. The Qazi approached the Caliph and said to him: "O Leader of the Faithful! I've brought before you a dispute which I could not settle. It is a difficult case, but I am certain that with your knowledge and wisdom, you will pronounce a just decision".
خلیفہ ہارون الرشید اپنے عدل نسل مندی کی وجہ سے بہت مشہور تھے اور اسی وجہ سے ان عزت جاتی تھی ۔ کے وقت آپ ایک عام آدمی کا بھیس بدلتے اور بغداد کے بازاروں کا گشت کرتے تھے ۔ وہ عام لوگوں میں مکمل مل جاتے تا کہ ان کی مشکلات اور مسائل سے مکمل طور پر آگاہ ہوسکیں ۔ ایک دن جب ان کا در بارانگا تھا، دو آدمی آپ کے روبرو پیش کئے گئے ۔ان میں ایک اچھے کپڑے پہنے ہوۓ تھا اور دو ایک متمول با عزت شہری دکھائی دیتا تھا، جب کہ دوسرا ایک بھکاری دکھائی دیتا تھا کیونکہ وہ چیتھڑوں میں ملبوس تھا۔ یہ دونوں آدمی اپنے درمیان ایک خوبصورت سفید گھوڑا کپڑے ہوۓ تھے ۔ قاضی خلیفہ تک پہنچے اور ان سے کہا " اے امیر المومنین ! میں آپ کے پاس ایک جھگڑالا یا ہوں جس کا میں خود فیصلہ نہیں کر سکا۔ یہ ایک مشکل مقدمہ ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ آپ اپنے علم اور دانشمندی سے منصفانہ فیصلے کا اعلان فرمائیں گے۔"
"What is the dispute?" asked the Caliph
"These two men here are fighting over this horse. Each one of them claims and swears that this horse is his."
"Step forward." The Caliph ordered the well-dressed man, and let's hear what you've to say." The man said to the Caliph: O Leader of the Faithful! I beg to believe me that whatever I say in your presence shall be the truth. This morning when was riding to the city, saw this beggar limping along ahead of me, on hearing the sound of iny horse's hoofs, he turned round and motioned to me to stop. I pulled the reins of my horse. He begged me to give him a ride upto the city gate. He was lame. felt sorry for him. So I pulled him up behind me on the horse. When we reached the city gate, stopped and turned round to help him get down. He refused to dismount. was puzzled, and gently told him to get down because we had reached the city gate. He said: "Why should I get down? I gave you a ride and now you want to rob me of my horse??
"خلیفہ نے پو چھا،
" جھگڑا کیا ہے؟"
" یہ وہ آدمی جو اس جگہ موجود ہیں اس گھوڑے پر جھگڑا کر رہے ہیں مان میں سے ہر ایک کوئی کرتا ہے اور جسم کھاتا ہے کہ یہ چھوڑا اس کا ہے۔ "آگے آؤ " خلیفہ نے اچھے لباس والے کسی کو علم دیا اور ہمیں سناؤ کہ تمہارے پاس کہنے کو کیا ہے؟" اس شخص نے خلیفہ سے کہا اے امیر المومنین امیں درخواست کرتا ہوں کہ آپ مجھ پریقین کیجئے کہ جو کچھ میں آپ کی موجودگی میں کہوں گا دو ہی ہوگا ۔ آج صبح جب میں گھوڑے پر سوار شر کی طرف آرہا تھا میں نے اس بھکاری کو دیکھا کہ وہ میرے سے لنگڑا کر چل رہا تھا۔ میرے گھوڑے کے سموں کی آواز سن کر دو اور مجھے شہر نے کا اشارہ کیا۔ میں نے اپنے گھوڑے کی کامی کی ساس نے التوا کی کہ میں اسے شعر کے دروازے تک گھوڑے پر اٹھا کر لے جاؤں ۔ اگر تھا، مجھے اس پر ترس آ گیا۔ اس لیے میں نے اسے اپنے پیچھے گھوڑے پراو پر بھیج کر بٹھا لیا۔ جب ہم شہر کے دروازے پر پہنچے تو میں رک گیا، اور نیچے اترنے میں اس کی مداکرنے کے لئے ایسے الیاس نے اترنے سے انکار کر پانی پریشان ہو گیا سواری سے اترنے کو کہا کیو کی ہم شہر کے دروازے تک ہی تھے تھے۔ اس نے کہا میں کیوں گھوڑے سے اتروں ؟ میں نے تمہیں گھوڑے پر سوار کیا اور اب تم مجھے میرے گھوڑے سے محروم کرنا چاہتے ہو۔"
Then the beggar limped forward and said: "O Leader of the Faithful! You are the helper and guardian of the poor. You are a wise and just Caliph. Have pity on me and save me from the cruelty and injustice of this rich man, I can swear that this horse belongs to me. You must be thinking, like everybody else in the court, how a beggar like me can afford to buy and keep such a fine horse. It is because of this horse that I am in rags. Whatever money I had, I spent on this horse. This morning, as I was coming to the city on my horse, noticed this man walking along the road. When I came close to him, he stopped me and requested to lend him my horse, for he was in a great hurry to reach the city. Of course, I could not lend my horse to a complete stranger. Could I? Instead, I let him ride my horse, while I sat behind him. As we reached the city gate, he asked me to get down and leave the horse to him. "Such a fine horse should not belong to a beggar,' he said. "Now, be off and don't you mention it to any one. And even if you do, nobody is going to believe you. Now, Sir I beg you to save me from this robber and restore to me what is my own."
حب بھکاری لنگڑاتے ہوئے آگے بڑھا اور کہا "اے امیرالمونین ! آپ غریبوں کے مددگار اور سر پرست ہیں ۔ آپ عقل مند اور عادل خلیفہ ہیں۔ مجھ پر ترس کھائیے اور مجھے اس امیر آدمی کے علم اور بے انصافی سے بچائیے ۔ میں قسم کھا سکتا ہوں کہ یہ گھوڑا میری ملکیت ہے۔ آپ بھی اور ہار میں ہر ایک کی طرح یہی سوچ رہے ہوں گے کہ میرے جیسا بھکاری ایسا اچھا کوڑا کیسے خرید کتا اور کھاسکتا ہے۔ میں اس گھوڑے کی وجہ سے پیروں میں ہوں ۔ میرے پاس جو رقم تھی دو میں نے اس گھوڑے پر خرچ کر دی۔ آج صبح جب میں اپنے گھوڑے پر شہر کی طرف آرہا تھا تو میں نے اس شخص کو سڑک پر چلتے دیکھا۔ جب میں اس کے قریب آیا اس نے مجھے روک لیا ، اور درخواست کی کہ میں اسے اپنا گھوڑا ادھار دوں۔ کیونکہ اسے شہر پہنچنے کی جلدی تھی ۔ یقینا میں ایک بالکل اجنبی شخص کو گھوڑا ادھاریں دے سکتا تھا۔ کیا میں ایسا کر سکتا تھا؟ اس کی بجائے میں نے اجازت دی کہ وہ میرے گھوڑے پر سوار ہو جائے جبکہ میں اس کے پیچھے بیٹھ گیا۔ جب ہم شہر کے دروازے پر پہنچے تو اس نے مجھ سے نیچے اتر نے اور گھوڑا اس کے حوالے کرنے کو کہا۔ "ایسا اچھا گھوڑا بھکاری کے پاس نہیں ہونا چاہئے ۔ اس نے کہا ” اب چلے جاؤ اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرنا اور اگر ایسا کرو گے تو تم پرکوئی یقین نہیں کرے گا ۔ اب جناب میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اس ڈاکو سے مجھے بچائے اور مجھے و دلوائے جو میرا ہے۔
"I think this case is not very difficult to decide," said the Caliph to the Qazi "I shall decide it in a minute. Tell these men to place their hands on the horse, one by one. Let the beggar do it first." When the beggar touched the horse, it winced as if it did not like the touch of his hand. But at the touch of the rich man's hand, the horse snorted and neighed with pleasure.
"This horse belongs to him." pronounced the Caliph, "Give the horse to its master." Then the Caliph turned to the beggar and said: "You are a liar and a wicked man. You tried to rob an honest and respectable citizen. You deserve severe punishment, but I shall be merciful and forgive you this time, if you, beg forgiveness of this gentleman here." The rich man readily forgave the beggar and, feeling sorry for him, took out his purse and gave him a handful of gold coins. This noble action of the rich man pleased everybody in the court.
میرا خیال ہے کہ اس مقدمہ کا فیصلہ کر نازیادہ مشکل نہیں لطیفہ نے قاضی سے کہا۔ میں ایک لمحہ میں فیصلہ کردوں گا ۔ ان آدمیوں کو کہیئے کہ وہ اپنے ہاتھ
ایک ایک کر کے گھوڑے پر رکھیں ۔ بھکاری کو پہلے رکھنے دو ۔ ۔
جب بھکاری نے گھوڑے کو چھوا تو اس نے تھر تھری لی گو یا اس کے ہاتھ کے چھونے کو پسند نہیں کیا۔ لیکن امیر آدمی کے چھوٹے پر گھوڑے نے نتھنے پھیلائے اور خوشی سے ہنہنایا۔
* گھوڑا اس کی ملکیت ہے " خلیفہ نے اعلان کیا ، " گھوڑا اس کے آقا کو دے دو ۔ پھر خلیفہ بھکاری کی طرف متوجہ ہوا اور کہا ” تم جھوٹے اور بیچ
انسان ہو اور تم نے ایک دیانت دار اور ہر شہری کوشش کی ہے تم سخت سزا کے مستحق ہو لیکن میں اس بار تم کرتا ہوں اور معاف کرتا ہوں اگر تم یہاں اس
شریف آدمی سے معافی مانگو۔۔
اس امیر آدمی نے فورا بھکاری کو معاف کر دیا ۔اور اس پر تاسف کرتے ہوئے جیب سے اپنا نو و کالا اور اسے مٹھی بھر اشرفیاں دیں ۔ امیر آدمی کے اس
شاندار فعل نے دربار میں ہرانس کو خوش کر دیا۔
🔷🔹🔷🔹🔷🔹🔷🔹🔷🔹🔷🔹🔷🔹🔷🔹🔷

0 Comments